Sketch by Morteza Rahimi

سال 2020 میں ہجرت کرنے والے پرندوں کاعالمی دن

پرندوں کی ہجرت ایک بہت دلچسپ موضوع ہے۔ جانوروں کا کوئی بھی دوسرا گروہ پرندوں جتنا حرکت پذیر نہیں ہے۔ عالمی سطح پر ر سال اربوں پرندوں کی ہجرت قدرت میں دیکھے جانے والے سب سے حیرت انگیز مظاہر میں سے ایک ہے۔ ان کی اڑان بھرنے کی اہلیت انہیں گھریلو حدود میں دنیا بھر میں حرکت کرنے کے قابل بناتی ہے۔ 

پرجاتیوں کے تحد، ہجرت کے فاصلوں کی حدود چند سو کلو میٹر سے لے کر ہزاروں کلومیٹر تک چلی جاتی ہے۔ جیسے جیسے سردی قریب آتی اور کھانے کی دستیابی میں کمی ہوتی ہے، پرندے ہجرت کرتے ہیں، کم وسائل والے علاقوں سے حرکت کر کے اعلی وسائل والے علاقوں میں جاتے ہیں۔ دو بنیادی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہیں خوراک اور سردی سے بچنے کے لیے گھوںسلوں کی جگہ۔

ہے نا حیرت انگیز کہ انہیں دنیا بھر میں سفر کرنے کے کیلئے کسی بھی دستاویز کی ضرورت نہیں ہوتی؟ انہیں الگ کرنے کے لیے سرحدیں، زبانیں، قواعد یا ثقافتیں نہیں ہے۔ وہ جہاں چاہیں اور جب چاہیں اڑنے کے لئے آزاد ہیں! 

دوسری طرف، انسان ان حالات سے دوچار ہے جو ہم نے خود اپنے لئے بنائے ہیں۔  ہم چاند پر پہنچ گئے، ہم نے ایٹمی ہتھیار اور الیکٹرو مقناطیسی تابکاری بنائی اور شہروں میں موبائل فون ٹاوروں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں – بظاہر پرندوں کی آبادی کو کم کر رہے ہیں، بے گناہ مخلوق ہماری ضرورتوں کا شکار ہے!  لیکن پھر بھی ، کوئی بھی امن کی توقع نہیں کرتا۔ ہمیں انسانوں کو سفر کے لئے دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم انسانوں نے دنیا کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ہے، سرحدیں بنا دیں ہیں اور اپنے آپ پر لیبل لگا دیا ہے۔ صرف ایک ہی لفظ خود بخود انسان کو غیر ملکی، مہاجر، تارکین وطن بنا دیتا ہے۔  

بہرحال، یہ مضمون ہجرت کرنے والے پرندوں کے عالمی دن کے لئے وقف ہے۔  ابھی بھی بہت کچھ سیکھنے کے لیے باقی ہے کہ یہ پرندے کہاں سے جاتے ہیں اور کس طرح جاتے ہیں، عمدہ سفروں کی تیاری کے لیے کونسے طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔

Sketch by Morteza Rahimi
Sketch by Morteza Rahimi

مرتضیٰ رحیمی