Stelios Grekas and Marios Sarellas - Photo by Chrysi Tzavla

نظر کے مسائل دوچار دو موسیقاروں نے ہار نہ ماننے کی اہمیت ظاہر کی

آج کل، موسیقی ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اور بہت سے لوگ موسیقی کے آلات سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن ان میں سے کچھ ہی کامیاب ہو پاتے ہیں۔ اس راستے پر بہت سی مشکلات ہوتی ہیں۔

آج مجھے موقع ملا ہے کہ میں ان میں سے دو، استیلیوس گریکاس (پیانو نواز) اور ماریوس ساریلاس (گٹارسٹ) کا انٹرویو کروں۔ اگرچہ وہ نابینا ہیں، لیکن انہوں نے اس مشکل پر قابو پالیا ہے اور اپنی زندگی میں مکمل طور پر کامیاب ہیں۔

آپ نے موسیقی سیکھنا کیسے شروع کی؟

اسٹیلیوس: میں کنڈرگارٹن میں داخل ہوا جب میں 4 سال کا تھا۔ ہماری ایک استاد تھیں جو ہمیں موسیقی سکھاتی تھی۔ ان کے پاس ایک الیکٹرانک کی بورڈ تھا۔ تھوڑی عرصے بعد، انہوں نے محسوس کیا کہ مجھ میں سننے کی صلاحیت بہت اچھی ہے۔اور انہوں نے میرے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ مجھے پیانو خرید کردیں۔

خیر، ماریوس، آپ نے؟

وہ خاموش ہیں، میرا خیال سے وہ ان دنوں کو یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ استیلیو ہنس رہے ہیں اور ماریوس کو کہ رہے ہیں کہ”جلدی کرو!”۔

ماریوس: میری عمر 9 سال تھی جب میں نے پیانو بجایا، لیکن اچانک میں نے گٹار سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے میں نے ایک مقامی استاد سے آغاز کیا۔

شروع میں کیسا تھا؟

ماریوس: دراصل، میں اپنی نظر کی پریشانی کی وجہ سے، غلط نوٹ کھیلتا تھا اور مجھے تاروں پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت تھی۔ تب میرے استاد نے مجھ سے کہا:“انہیں دوبارہ دبارہ دیکھنے کی کوشش نہ کرو۔ سن کر اسے کرنے کی کوشش کرو! “. اور یہ میرے لئے سنہری چابی تھی۔ میں نے اس کی بہت پریکٹس کی۔

استیلیوس نے ایک لمبی سانس لی: در اصل، میرا پہلا میوزک ٹیچر مجھے اتنی ذیادہ تکنیکیں نہیں سکھا سکا، کیوں کہ میں دیکھ نہیں سکتا۔ جب میں نے دوسرے استاد سے سیکھنا شروع کیا، تو ہم نے ایک اور طریقہ اختیار کیا:میں نے ان کی حرکت کو سمجھنے کے لیے ان کے ہاتھ چھوتا۔ اور خوش قسمتی سے میرے لیے سب بہتر رہا۔

خیر ہے، کیا اب آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ آپ کی فنی زندگی میں سب سے زیادہ بااثر شخص کون رہا ہے؟

وہ دونوں سوچ رہے ہیں۔

اسٹیلیوس: یقینی طور پر میرا پہلا میوزک ٹیچر۔ بےشک وہ مجھے بہت ساری تکنیکیں نہ سکھا سکی، لیکن انہوں نے مجھے موسیقی کا صحیح معنی سکھایا اور بتایا کہ میں موسیقی کو کس طرح سے پسند کرسکتا ہوں۔ اگر وہ نہ ہوتیں تو میں اس مقام پر نہ ہوتا!

ماریوس: دراصل، میں نے نوجوانی میں ایک کیفے میں گٹار بجایا تھا۔ وہاں اچھا تھا۔ لیکن میں اپنی فنی صلاحیت کے حوالے سے خود سے بھر گیا تھا اور میں نے سوچا کہ مجھے مزید مشق کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ایک رات دو موسیقار آئے اور کہا: “آپ ایک باصلاحیت لڑکے ہیں۔ لیکن آپ یہاں اپنی صلاحیتیں ضائع کررہے ہیں۔ آپ کو موسیقی سیکھنی اور اس مطالعہ کرنا چاہئے۔ یہیں نہ رہیں اور اپنی صلاحیتوں کو ضائع نہ کریں!”۔ ان کے الفاظ نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا اور میں نے اپنا زہن اور اپنی زندگی کو تبدیل کیا۔

انٹرویو کے دوران، میں نے انہیں ہر وقت مسکراتے ہوئے دیکھا۔ وہ واقعی مثبت اور طاقتور لڑکے ہیں اور معاشرے کے لئے ایک علامت بن سکتے ہیں۔ محنت اور ہار نہ ماننے کی علامت۔

آخر میں، استیلیوس نے کہا کہ وہ پیانو بجانے کے علاوہ اچھے گلوکار بننا چاہتے ہیں، اور ماریوس نے کہا کہ وہ میوزک ٹیچر بننا چاہتے ہیں۔