Illustration by Marianna Spiliotaki

گرین واشنگ کا جواب باشعور صارفین ہیں۔

کچھ وقت آن لائن گزارنے یا ٹی وی پر اشتہار دیکھنے سے، کوئی بھی آسانی سے یقین کرسکتا ہے کہ آج کل زیادہ سے زیادہ لوگ اس سیارے کو بچانے کے لئے متحرک ہیں۔ بدقسمتی سے، اگر کوئی اس پر تھوڑی غور  سے نظر ڈالے تو، جلد ہی انہیں احساس ہوجائے گا کہ یہ سب اشتہار کچھ بھی نہیں ہے بلکہ کمپنیوں کے لئے ایک ایسا طریقہ ہے جس سے وہ اپنی مصنوعات کو صارفین کے لئے زیادہ دلکش بنائیں۔

ہم نام نہاد گرین واشنگ – فروخت میں اضافے کی کوشش میں کمپنیوں کے لئے “گرین” خصوصیات کی تشہیر اور “ماحولیاتی احساس” والی تصویر پیش کرکے صارفین کی گمراہی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر میں متعدد کمپنیاں ایسے طریقوں کا استعمال کرتی ہیں۔ان تکنیکوں کی سب سے زیادہ اور غالبان سب سے زیادہ قائل کرنے والی مصنوعات میں شامل کچھ اجزاء کی منتخب ترویج ہے۔ بعض اوقات “سبز” اجزاء پر مرکوز اشتہارات بغیر کسی ثبوت کے پیش کئے جاتے ہیں، کہ آیا واقعی وہ ماحول کے لیے مثبت ہیں، جبکہ دوسری طرف، اجزاء کا ماحول پر نقصانات کے بارے میں ذکر نہ کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ صارف آسانی سے اس کے ساتھ کام چلاسکتے ہیں اور پیکیجنگ پر موجود عمدہ پرنٹ پر غور  کرنا بھول جاتے ہيں۔

مزید یہ کہ، یہ کبھی نہ بھولیں کہ اشتہاری مہم سے ماحولیاتی مسائل کا حل نکلتا نظر آ سکتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ کمپنی کی سرگرمیاں کسی اور طریقے سے اثر اندز ہو سکتی ہیں۔اس کی ایک عمدہ مثال کپڑے بنانے والی کی کمپنیاں ہیں جو دعوی کرتی ہیں کہ وہ ماحول دوست مواد استعمال کرتی ہیں، جبکہ ان کے کارخانوں میں کام کرنے کے حالات انکے ملازمین کے لئے انتہائی غیر صحت بخش اور خطرناک ہیں۔ مزید برآں، کارپوریشنز زیادہ تر ماحول دوست طرز زندگی کو اپنانے کے لیے اور صارفین سے منافع کمانے کے لئے ایک جعلی “گرین پروفائل” تشکیل دیتے ہیں۔ یہ مخصوص رجحان، ہم عصر اور بیک وقت خطرناک ہے، یہ حقیقت ہے کہ بطور صارف ہم شاذ و نادر ہی اس بات پر محتاط نظر ڈالتے ہیں کہ اصل میں ہم خرید کیا رہے ہیں۔ وہ کمپنیاں جو عام طور پر اس طرح کے طریقوں عمل کرتی ہیں عام طور پر آج کی تیز رفتار زندگی اور اس حقیقت کا فائدہ اٹھاتی ہیں کہ کسی کے لئے خریداری کے وقت اتنا سوچنے میں وقت لگانا عیش و آرام ہے۔

یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ بطور صارفین زیادہ باشعور ذہنیت اپنائیں اور آنکھیں بند کرکے اشتہاری مہموں پر اعتماد نہ کریں۔ اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ذاتی سطح پر خرچ کو کم کریں۔ ہمیں یہ بات ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنی چاہئے کہ، اگر ہم واقعی اپنے سیارے کی حفاظت میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس پر مستقل طور پر غور کرنا چاہئے کس چیز کے لیے اپنا پیسہ خرچ کرتے ہیں۔عام طور پر مصنوعات پر زیادہ معقول خیال پیش کرنے والی چیزوں کے ایکو لیبل اور غیر سرکاری تنظیموں کی رپورٹوں کی تلاش کرنا بھی زیادہ دانشمند ہوگا۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں بڑی کارپوریشنوں کے ذریعہ چلنے والی کسی بھی قسم کی ماحولیاتی سرگرمی کی مذمت کرنا ہوگی؟ یقینا ہم غیر واضح ہونے کی ترغیب نہیں دیتے ہیں۔ہمارا مقصد سوال کرنا ہے، ہمیشہ اچھی خواہش میں، جنہیں ہم اپنے آس پاس سنتے یا دیکھتے ہیں۔ اس تنقیدی سوچ کے ذریعہ ہم قیمتی معلومات سے غلط معلومات کی تفریق کرسکیں گے۔ اس طرح کے سوچ کو تائید کرکے ہم دوستوں اور خاندان کو مثبت انداز میں متاثر کرسکتے ہیں، تاکہ وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں بھی ایسے طریقوں کو لاگو کرسکیں۔

ماریانا سپیلیوتاکی