Photo by Elias Sharifi

سستو کے پناہ گزین کیمپ میں، آپ کو اتیکا کے سب سے خوبصورت ترین باغات مل سکتے ہیں. 

باغبانی کی شرواعت سے ماسٹر باغبان بننے تک ہمیشہ گھر میں باغبانی کرنے میں کچھ نیا اور مزےدار دریافت ہوتا ہے، لیکن اس دفہ  کہانی مختلف ہے۔ 

افغان لوگوں کی اپنے آپ کو ہر وقت مصروف رکھنے کی ایک ساف عادت ہے۔ اپنے ملک میں، وہ ہمیشہ سارا دن کام کرتے مصروف رہتے تھے، لیکن یہاں زندگی افغانستان سے بہت ذیادہ مختلف ہے۔  مرد بے روزگار ہیں اور سارا دن ایک ہی جگہ رہنے سے، انہیں بیزاریت محسوس ہوتی ہے لہذا انہوں نے پناہ گزین کیمپ میں اپنے کنٹینرز کے سامنے اپنے باغات کاشت کرنے کا فیصلہ کیا۔ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ پناہ گزین کیمپ اخبارات کی توجہ بن جائے گا۔

کیمپ کے کونسل نے اعلان کیا ہے لوگ اپنی مقرر کردہ جگہ سے باہر کچھ نہیں بنا سکتے، کیمپ کے نظریات کو محفوظ کرنے کا ایک طریقہ ہے، نہیں تو کیمپ بند بند لگے گا اور لوگ اپنے راسترں کو پار نہیں کر پائیں گے۔

شیشتو پناہ گزین کیمپ میں رہنے والے زیادہ تر لوگ افغان ہیں۔ کیمپ کی حفاظت کرنا ایک منفرد احساس ہے اور کمیونٹی ایسی چیز ہے جو مقامی لوگوں کے لئے ضروری ہے۔

ہم نے وہاں رہنے والے کچھ لوگوں کے ساتھ بات چیت کی اور ان کے خوبصورت باغات کے بارے میں ان سے پوچھا ہے۔

اس باغ کو مکمل کرنے میں کتنا عرصہ لگا؟

دیکھیں، اس باغ کو مجھے مکمل کرنے کے لئے تقریبا دو سال لگے۔ لوگوں نے پہلے کہا کہ اس سے وقت ضائع ہوتا ہے لیکن جب میں نے اسے مکمل کیا تو جو لوگ مجھے کہتے تھے کہ اس سے وقت ضائع ہوتا ہے آج وہی لوگ میری تعریف کرتے ہیں، مسٹر هاشم نے بتایا کہ میرے پاس مختلف قسم کے پھول ہیں جیسے کہ للی، گلاب، سورج مکھی کے پھول اور بہت سے۔

آپ کا اپنے باغ کے بارے میں کیا خیال ہے؟

میرا نام فرید ہے اور میں افغانستان سے ہوں۔ میرے ملک میں میرا ایک چھوٹا سا باغ تھا، تو میں نے سوچا کہ یہاں کیوں نہیں!؟ تو میں نے بوسٹن آئیوی پھول، کھجور پھول اور دارکینا جیسے پھولوں سے اپنا چوٹا سا باغ بنایا۔ 

آپ کے لیے باغ کا مطلب کیا ہے؟

میرا باغ مجھے افغانستان میں اپنے گھر کے پیچھے صحن کی یاد دلاتا ہے۔ جہاں میں نے بھیڑ، بطخیں اور مرغیاں رکھی ہویں تھیں، لیکن یہاں میں نے صرف 2 سفید کبوتر اور ایک جوڑی خرگوش رکھے ہوئے ہیں۔ میرے پاس ادہر اپنے باغ میں مختلف قسم کی سبزیاں اور جڑی بوٹیاں ہیں، جیساکہ دهنیا، پودینہ، اوریگانو، شملہ مرچیں اور ٹماٹر جیسی، جو میں سلاد کے لیے استعمال کرتا ہوں۔ شام کو جب میں اپنی چائے پیتا ہوں، یہ باغ مجھے افغانستان کی یاد دلاتا ہے، میرا باغ میرے لیے بہت معنی رکھتا ہے، مسٹر صمیم نے کہا۔ 

خوبصورت باغ!!

مجھے پکا نہیں ہے کہ میرا باغ بہترین ہے کہ نہیں، لیکن میں واضح طور پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ میرے پاس مختلف رنگوں کے بہترین پھول ہیں، میرے پاس ازاليہ، بگونیا، روزمیلوز، سورج مکھی اور گلاب جیسے پھول۔ 

وہاں ایسے افراد بھی تھے جنہوں نے نہ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آپ کا باغ کیوں نہیں ہے، اپنے پڑوسی کی طرح؟

میرے پاس باغ نہیں ہے کیونکہ چند مہینے بعد میں اپنے خاندان کے ساتھ یونان سے جرمنی چلا جاؤں گا۔ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے لیکن میں باغ یا یارڈ بنانا چاہتا ہوں۔

جب میں اس مضمون کے لئے تحقیق کر رہا تھا، میں نے فغان کے ایک خاص نوجوان لڑکے سے بات کی۔ وہ خود سے یونان میں آیا۔ اکیلا۔ اس نے کہا، “میں اپنے والد کی باغبانی کے دوران مدد کرتا تھا، لہذا میں نے اپنے والد سے پودوں کو بڑھانے اور ان کو پانی دینے اور اپنے باغ کی دیکھ بھال کے بارے میں سیکھا۔ پودے لگانے میں میرے دوستوں میں سے ایک دوست نے میری مدد کی۔ میرے پاس ایک بینچ اور میز ہے لہذا میں اپنے باغ میں اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ سکتا ہوں اور اپنی ہر شام سے لطف اندوز ہو سکتا ہوں۔ میں نے اپنے باغ کو اپنی ماں کو وقف کیا۔ 

مجے بہت مزہ آیا ان سے بات کر کے۔ 

Photos by Elias Sharifi

مرتضیٰ رحیمی