سستو کیمپ کے سیف زون میں قرنطینہ

ہر سال افغانستان، شام اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کی تعداد میں تنہا بچے سمندر اور زمینی راستے سے یونان میں داخل ہوتے ہیں۔ نیشنل سینٹر برائے سوشل یکجہتی کے اعدادوشمار کے مطابق، اس سال کے موسم گرما کے شوروع میں اندازان 4898 تنہا نابالغ بچے یونان میں مقیم تھے۔ ان میں سے 1300 سے زائد بچے رہائشوں میں، 300 کے قریب ہوٹلوں میں اور 300 کے قریب پناہ گزین کیمپوں کے سیف زون میں رہائش پذیر ہیں۔ مزید برآں 950 سے ذائد تنہا نابالغ بچوں کی، غیر سرکاری / غیر محفوظ رہائشی حالات  میں رہنے کی اطلاع ملی ہے۔ ہر وقت خبروں کو دیکھنے سے لے کر، سوشل میڈیا پر تھوڑا بہت سکرول کرنے تک، اپنے آس پاس چل رہی چیزوں کے شور میں گم ہوجانا آسان ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران بہت سے لوگوں کو اس چیز کا احساس ہی نہ ہوا کہ ہمیں قرنطین میں ہی رہنا چاہئے اور معاشرتی فاصلہ قائم رکھنا چاہئے، بے شک ہم کورونا وائرس سے متاثر ہوں یا نہ ہوں۔ یونان میں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ #گھر میں رہیں. لیکن ان کا کیا جن کے پاس گھر ہے ہی نہیں – وہ تنہا نابالغ بچے جو پناہ گاہوں یا کیمپوں میں رہتے ہیں؟ 

میں سوچ رہا تھا، پناہ گزین کیمپوں، رہائش گاہوں اور خاص طور پر سیف زون میں کیا ہو رہا ہوگا۔ تو میں نے خود سے دیکھنے کا فیصلہ کیا، چنانچہ اس بارے میں بات کرنے کے لیے میں نے سستو پناہگزین کیمپ کے سیف زون کا دورہ کیا، جہاں میری ملاقات آرسس آرگنائزیشن کے کوآرڈینیٹر، نیکوس استیرگیو، سے ہوئی۔ 

آپ کی تنظیم نے قرنطینہ کے دوران سیف زون میں کیا اقدامات کیے تھے؟

ہمارا پہلا قدم اس کو یقینی بنانا تھا کہ ہم سب کو وبائی امراض کے بارے میں صحیح طریقے سے آگاہ کریں- اور سب سے ضروری ان تنہا نابالغ بچوں کو آگاہ کرنا جن کی ہم میزبانی کرتے ہیں۔ حکام کی ہدایات مطابق، ہم نے عملے اور نابالغ بچوں کے مابین اچھا تعاون قائم کرنے کی کوشش کی اور یقینا ، ہم ان کی حفاظت کے لیے، اچھی طرح سے تیار رہنے کی کوشش کی۔ ہم نے انہیں دستانے، اینٹیسیپٹیک صابن اور فراہم کردہ سہولیات کی تمام سطحوں کو صاف کرنے کے لیے سپرے فراہم کیے۔

 سب سے مشکل کام بچوں کو صورتحال کی وضاحت کرنا تھا۔ لاک ڈاؤن کا مطلب یہ تھا کہ وہ جو کچھ بھی پہلے کرتے تھے  چاہے کیمپ کے باہر یا اندر اس کے ساتھ ساتھ سیف زون میں بھی، اس سب کی اب اجازت نہیں تھی – یہ بالغ لوگوں کے لئے بھی مشکل تھا، بلکل سب کی طرح۔ 

ہم نے ذاتی طور پر بچوں سے ان کی ضروریات سے نمٹنے کے لئے یا وبائی امراض سے متعلق کسی بھی طرح کے تناؤ کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے کھلی جگہوں پر ملاقات کی۔

کچھ رہائش گاہوں نے تو اس صورتحال کو بہت سختی کے سات نمٹایا ہے، جیساکہ کہ وہ نابالغ بچوں کو اس وقت تک باہر جانے کی اجازت نہ دیتے، جب تک کوئی ہنگامی صورتحال نہ ہو۔ کیا یہاں کے نابالغ بچے، سیسٹو میں، اقدامات کی ضرورت کو سمجھتے ہیں؟ 

ہم نے نابالغ بچوں کو کیمپ سے باہر نہیں جانے دیا – ویسے بھی یہ ایک حکامی ہدایت تھی۔ یقینا، کچھ بچوں میں باہر جانے کی خواہش تھی، لیکن ہم نے انہیں سمجھایا کہ یہ انتہائی خطرناک ہے۔ یہ اقدام  سب کے لئے تھا۔  کسی کو بھی اس اقدام سے باہر نہیں رکھا گیا – ہمیں کئی بار اس کی وضاحت کرنی پڑی۔ 

جیساکہ اسکول بند تھے، کیا آپ نے قرنطین کے دوران کسی بھی طرح تعلیمی سرگرمیاں یا میٹنگز کا اہتمام کیا؟

ہم نے کچھ ملاقاتیں ون ٹو ون کیں، لیکن صرف کھلی جگہوں پر اور ہم یونان کی نیشنل پبلک ہیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے دو اجلاس منعقد کرنے میں کامیاب ہوئے، تاکہ بچوں کو کوویڈ 19،  قرنطینہ اور اس سے وہ اپنی حفاظت کیسے کرسکتے ہیں، اس کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔ ہم نے بچوں کے لئے کچھ سرگرمیاں منظم کیں، جیسے پینٹنگ یا بورڈ گیمز وغیرہ۔ نیز، ہم نے ایک وائی فائی ریپیٹر انسٹال کیا اور بچوں کو دو بار موبائل کریڈٹ فراہم کیا، تاکہ وہ بات چیت کرسکیں یا آن لائن ویڈیو اور سیریز دیکھ سکیں۔ حال ہی میں ہم نے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنی پہلی بار رات کو باہر  فلم دیکھی۔ ہم اس میں کامیاب ہوئے، کیونکہ اقدامات اب زیادہ لچکدار ہیں۔ نگرانی کرنے والے کے مطابق، سیف زون سے نبچوں نے فاصلہ برقرار رکھنے کی کوشش کی اور اپنی کرسیاں اپنے کمروں سے لائے۔ شکر ہے، ابھی تک، نہ صرف سیف زون کے اندر، بلکہ پورے کیمپ میں، ہمارے پاس کوویڈ 19 کا کوئی کیس نہیں ہوا۔

Photos by Mοrtaza Rahimi

ایک چیز جو میں نے سستو کیمپ میں دیکھی وہ کوویڈ 19 کے بارے میں اعلان تھا، جو دن میں تین بار، تین زبانوں میں سنا جاتا تھا۔ تاہم، وہاں رہنے والے لوگوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے، میں نے یہ سنا کہ کچھ لوگوں کو حالات کی بلکل پرواہ نہیں تھی اور یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ قرنطین لگا ہوا ہے پر بھی وہ باہر جاتے رہے۔ نیز، میرے خیال سے سیف زون میں اسکریننگ سے گریز کیا جاسکتا تھا۔ پھر بھی سب کچھ رہا اور کوویڈ 19 کا کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا، مجھے تو یہ خطرہ لگ رہا تھا۔ میں ہر روز ڈرامائی صورتحال میں نیوز ہیلتھ ورکرز کو دیکھتا ہوں، ایک تناؤ صحت کے نظام کے ساتھ قابو پانے کی شدید.

 کوشش کر تے ہوئے۔ جیسا کہ لگ رہا ہے کہ، معاملات دوبارہ کبھی اس طرح نہیں ہوں گے۔ اس بحران کا ہمارے معاشرے پر نمایاں اثر پڑے گا اور ہمیں اس سے بہت کچھ سیکھنا ہوگا۔

Photo by Mοrtaza Rahimi
Photo by Mοrtaza Rahimi

مرتضیٰ رحیمی