گھر سے دور ایک مکان

یہ ایک مختصر کہانی  جو Erasmus + پروگرام “اپنی زندگی کو تبدیل کریں، اپنا دماغ کھولیں” کے فریم ورک میں لکھی گئی تھی۔ تھیسالونیکی کے پہلے تجرباتی ایلیمینٹری اسکول – AUTH نے اسکول میں مہاجرین کی میزبانی کے بعد حصہ لیا۔

ہمیں اپنا ملک، گھر، محلہ، دوستوں کو تبدیل کیے ہوئ کچھ ہفتے ہی ہوئے ہیں… میں ازبر ہوں اور میں عراق میں پیدا ہوا تھا۔ میں دو ہفتوں میں 8 سال کا ہوجاؤں گا۔ یہ عجیب ہے کیونکہ یہ پہلی دفعہ ایسا ہوگا کہ میں اپنی سالگرہ اپنے دوستوں کے ساتھ نہیں مناؤں گا۔ میں اور میری فیملی نے اپنا گھر چھوڑ آئے۔ گھر کیا ہے؟

حال ہی میں عراق میں معاملات عجیب و غریب تھے۔ میری ماں خاموش اور افسردہ دکھائی دیتی تھی۔  میرے والد پریشان تھے اور جب بھی میں ان سے پوچھتا کہ کیا ہو رہا ہے تو وہ سختی سے جواب دیتے ” یہ ایسی چیز نہیں ہے جس سے آپ کو تشویش لاحق ہو”۔ میری اپنے دوستوں سے ملاقات بھی بہت کم ہوتی تھی اور اسکول بند تھے۔ میں گھنٹوں اپنے اسکیچ پیڈ پر ڈرا کرتا رہتا تھا۔ میں ڈرائنگ میں گم ہوتا جا رہا تھا۔ باہر عجیب و غریب چیزیں ہو رہی تھیں۔ کبھی کبھی، ایسی اونچی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جو مجھے ڈرا رہی ہیں۔ 

ایک رات، تقریبا صبح 2 بجے کا وقت تھا۔ میری ماں نے مجھے جگایا۔ میرے والد دروازے پر کسی شخص سے باتیں کر رہے تھے۔ وہ شخص ہمیں ایک وین میں لے گیا اور ہم سب گاڑی میں داخل ہوگئے۔ وہ کافی دیر تک گاڑی چلاتا رہا، جب اس نے گڑی روکی۔ ہم وین سے باہر نکلے اور میرے والد لائف بوٹ نکالنے میں اس شخص کی مدد کرہے تھے۔ ہم نے لائف بوٹ سمندر ڈالی اور ہم اس کے اندر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد۔۔۔۔۔ اس کے بعد مجھے یاد نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں سو گیا تھا۔ میرے امی ابو نے مجھے بتایا کہ آپ نے بہت لمبا سفر کیا ہے۔  بہت لمبا۔۔۔ بہتر زندگی کی طرف کا سفر۔ جب میں نیند سے اٹھا تو میں اپنے والد کی باہوں میں تھا۔ ہم کچھ دیر تک چلتے رہے جب تک کہ ہم ایک خیمے تک نہ پہنچے۔ اس خیمے میں میری ماں تھی۔ میرے والد نے مجھے نیچے اتارا۔ میں نے اپنا سر خیمے سے باہر نکالا۔ تو وہاں آس پاس مختلف رنگوں کے لوگ تھے اور وہ مختلف زبانیں بول رہے تھے۔ وہ جگہ خاردار تاروں سے گھری ہوئی تھی۔ میرے والد نے مجھے بتایا کہ اس جگہ کو مہاجر کیمپ کہا جاتا ہے۔ 

کچھ دن گزرے اور مجھے کیمپ کی عادت ڈالنا شروع ہو گئی، لیکن مجھے عراق میں اپنا گھر بہت یاد آتا ہے۔ نئے لوگ نئے گھر کی تلاش کی امید کے ساتھ کیمپ میں آتے رہتے ہیں۔ بعد میں مجھے پتا جلا کہ ہمارے گاؤں پر بمباری ہوئی تھی اور وہاں کچھ نہیں بچا تھا۔ تو، اب وہاں ہمارا گھر نہیں رہا؟ کیا اب سے کیمپ ہی ہمارا گھر ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ سب لوگ یہاں کسی اور جگہ منتقل ہونے کے منتظر کیوں ہیں؟ 

قریب دو مہینے ہوگئے ہیں۔ آج میں نے کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے جو کہ ایک عجیب و غریب یونیفارم میں تھا کہ جو پناہ گزین 423 سے 457 نمبر والے خیموں میں رہتے ہیں وہ کیمپ سے چلے جائیں گے۔ ہم دو دیگر فیملیوں کے ساتھ 443 نمبر خیمہ میں قیام پذیر تھے۔ شروع میں مجھے لگا کہ میں نے غلط سنا ہے، میں نے یقین نہ کیا،لیکن رات کو وردی میں موجود ایک شخص نے میرے والد سے کہا کہ وہ تیار ہوجائیں کیونکہ وہ صبح سویرے ہمیں لینے کے لیے آئیں گے۔ تو وہ سچ تھا۔ وہ وقت رخصت ہونے کا وقت تھا، دوسرے رخصت ہونے والے لوگوں کی طرح، اور دوسرے لوگوں کو اپنی جگہ دینے کا۔

کافی عرصہ سے میں کیمپ چھوڑنا چاہتا تھا، لیکن اب مجھے پتا کہ میں اصل میں کیا چاہتا ہوں۔ وہ کون سی جگہ ہے جہاں وہ ہمیں لے جارہے ہیں کیا اس سے بھی بری ہے؟ کیمپ میں انہوں نے ہمیں پانی اور کھانا دیا۔

کیمپ میں گھر جیسا محسوس نہیں ہوتا، لیکن کم از کم میں سڑک پر تو نہیں ہوں۔ میں سوچ رہا تھا کہ، کیا وہ جگہ گھر جیسی ہوگی جہاں وہ ہمیں لے کر جا رہے تھے۔ 

جب میں صبح نیند سے جاگا۔ پھر سے دو وردی والے افراد آئے اور ہمیں ایک کار میں لے گئے۔ وہاں سے، ہم دو گھنٹے کے اندر ایک نئے مقام پر گئے۔ وہ ہمیں وہاں چھوڑ کر چلے گئے۔ اب ہم چھ منزلہ عمارت کے ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں رہیں گے۔

اگرچہ شروع میں میرے وہاں کوئی دوست نہیں تھے اور امی اور ابو اکثر نوکری کی تلاش میں ہی رہتے تھے، مجھے لگا کہ یہ چھوٹا اپارٹمنٹ میرا گھر ہے۔ 

عراق میں اور کیمپ میں میرے پاس چھت تھی، ضرورت کا سامان تھا، فیملی تھی، لیکن میں محفوظ نہیں تھا۔ اس چھوٹے سے گھر میں میں خود کو محفوظ محسوس کرتا ہوں اور یہی چیز اسے گھر کی طرح محسوس کرتی ہے۔

ہمیں یہاں آئے ایک مہینہ ہوا ہے اور چیزیں بہتر ہو رہی ہیں۔ امی اور ابو کو نوکری مل گئی ہے۔ امی ایک ریسٹورنٹ میں برتن دھوتی ہیں اور ابو ایک تعمیراتی جگہ پر کام کر رہے ہیں۔ میں نے اسکول جانا شروع کردیا ہے۔ مشکل ہوتا جب آپ زبان نہیں بول سکتے اورکبھی کبھی دوسرے بچے آپ کو عجیب انداز سے دیکھتے ہیں، لیکن ٹھیک ہے۔ میں تیزی سے سیکھتا ہوں اور میں نے، فدیہ اور جوہن دو نئے دوست بنائے ہیں۔ ہم تینوں کا تعلق مختلف ممالک سے ہے۔ ہم تین غیر ملکی ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں ایک غیر ملک میں ہیں، جیساکہ عراق چوڑنے سے پہلے میرے والد نے کہا تھا۔ فدیہ، جوہن اور میں اچھے دوست ہیں۔ ہم کسی کو پریشان نہیں کرتے اور ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ آخر میں، گھر ایک ایسی جگہ ہے جو آپ کو محفوظ محسوس کرتی ہے اور جہاں لوگ آپ کی حفاظت کرنے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ ہمارا نیا مکان ذبردست ہے، بلکہ سب سے ضروری یہ ایک حقیقی گھر ہے!

الیگزیندروس اناستاسیو