The Mayor of Tilos

تیلوس جزیرہ،جہاں پناہ گزین کو ایک موقع کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

تیلوس ایک چھوٹا جزیرہ ہے جو مشرقی ایجیئن، یونان میں واقع ہے۔ یہ جزیروں کے ڈوڈیکنی گروپ کا حصہ ہے جو کوس اور رودوس کے درمیان ہے۔ اس چھوٹے سے جزیرے نے بہت سارے لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے، اس نے اپنی قابل تجدید توانائی پر مبنی بیٹری اسٹیشن اور سمارٹ مائکروگریڈ سےیورپی یونین کا 2017 کا پائیدار توانائی کا ایوارڈ جیتا ہے، اور یہ یورپ کا انتہائی دوستانہ، پرامن اور ماحول دوست جزیرہ سمجھا جاتا ہے۔ کیوں اور کیسے؟

تیلوس کی موجودہ آبادی 780 رہائشیوں پر مشتمل ہے۔ ایسی چھوٹے چھوٹے علاقوں کی آبادیوں میں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ چھوٹی اور مضبوط آبادیاں معاشرتی پیش کشوں، تعلیم، بنیادی خدمات، عظيم قیادت، معیشت اور حفاظت سے بنی ہیں۔ کیا پتا آپ پوچھیں کہ: اس طرح کی کمیونٹی مختلف افراد، جیساکہ مہاجرین، فیملیوں کے ساتھ چھوٹے بچوں کا خیر مقدم کیسے کر سکتی ہے؟ تو اس کا جواب حیرت انگیز ہے۔

میں نے برادری کی روح، ٹیلوس کی میئر، مس ماریہ کامہ الیفیری سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔

تیلوس جزیرے کے بارے میں آپ کی سب پسندیدہ چیز کیا ہے اور کیسا لگتا ہے یہاں کا میئر ہونا؟

میں اپنے جزیرے سے انتحائی محبت کرتی ہوں! یہ موسم گرما میں سیاحوں کے لئے جانا جاتا ہے، لیکن میرے خیال میں اس کی أصل خوبصورتی سردیوں اور بہار کے موسم میں ہوتی ہے، جب ہر چیز کھلی ہے۔ تو، میرے خیال سے تیلوس کے بارے میں میری سب سے پسندیدہ چیز اس کی قدرت ہے۔

عام طور پر میئر ہونا، آسان نہیں ہے۔ یہ ایک بہت ہی ظالمانہ میدان ہے، خاص طور پر ایک عورت کے لئے۔ آپ کو روزمرہ کی زندگی کے عام مسائل، سے لے کر بہت مشکل سماجی اور عالمی مسائل، جیسے پناہ گزینوں کے مسئلہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے ہم نمٹتے ہیں، یہاں تیلوس میں۔

کس چیز نے تیلوس جزیرے کی برادری کو مہاجرین کی حمایت کرنے کے فیصلے پر آمادہ کیا؟

طلوس کی برادری انسانی اقدار پر یقین رکھتی ہے۔ مہاجرین تک اپنا ہاتھ پہنچانے کے لئے بلدیہ اور جزیرے کے لوگوں کا رد عمل قدرتی طور پر سامنے آیا۔ میرے خیال کے مطابق تیلوس کی سٹی کونسل پورے یورپ میں سب سے پہلی کونسل تھی – جس نے متفقہ طور پر اپنی برادری میں مہاجرین کو قبول کرنے اور ان کی میزبانی کرنے کا فیصلہ کیا۔

ہم نے فیصلہ کیا کہ پناہ گزینوں کا مسئلہ ہمیشہ سے کوئی ایک مسئلہ ہی نہیں ہوتا، بلکہ اس سے کچھ برادریوں مثلا تیلوس کی ترقی کا موقع ہوسکتا ہے، لہذا ہم نے کچھ خاندانوں کو اپنے ساتھ ہم آہنگی کے لئے یہاں رکھا ہے۔ ہم پرتشدد انداز میں اپنے گھروں اور ممالک کو چھوڑنے پر مجبور ہونے والے پناہ گزینوں کو ایک دوسرا موقع دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ایک خوبصورت جزیرے پر پرسکون ماحول میں منتقل ہوجائیں اور دوبارہ اپنی زندگی کا آغاز کریں۔ ہم اصل انضمام کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں نہیں لگتا کہ پناہ گزین ہم سے مختلف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے اسکول پناہ گزینوں کے لئے کھولے ہیں۔ جو بھی سرگرمی ہمارے بچے کرتے ہیں، پناہ گزین بچے بھی اس میں حصہ لیتے ہیں۔

Painting by Mahbube Ebrahimi

اس وقت تیلوس نے کتنے پناہ گزینوں رہائش پذیر کیا ہوا ہے؟

اس وقت ہمارے یہاں 6 فیملیاں رہتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اکیلے والدین اور بہت سے بچے ہیں۔ اس سال کا میرا مقصد ہے اور میں نے اپنے ساتھیوں کو بھی اس کے بارے میں بتایا ہے کہ ہمارے پاس جزیرے میں رہنے اور کام کرنے کے لئے کم از کم ایک خاندان لازمی موجود ہونا چاہئے۔

اگر آپ کو راتوں رات پناہ گزینوں کے لیے ایک چیز تبدیل کرنے کا موقع ملے تو وہ کیا ہوگی؟

میں ان سب فیملیوں کو پناہ کی اجازت دے دوں گی جو یہاں جزیرے میں رہتی ہیں اور انہیں ادہر رہنے پر آمادہ کروں گی، کیونکہ وہ تیلوس میں رہ کر یہاں کام کرنا چاہتے ہیں۔

کیا آپ دوسرے لوگوں اور میئروں کو پیغام دینا چاہتی ہیں جو اپنے شہروں میں پناہ گزینوں کی موجودگی کی مخالفت کرتے ہیں؟

میں نہیں جانتی کہ آپ اس بات سے آگاہ ہیں یا نہیں کہ مجھے یہاں تک پہنچنے کے لیے کن کن مراحل سے گزرنا پڑا۔ مجھے پناہ گزینوں کے ساتھ کھڑے ہونے پر برا بھلا کہا گیا ہے۔ یہ آسان نہیں تھا اور خاص طور پر ایک خاتون میئر کے لئے (ہم تعداد میں اتنی زیادہ نہیں ہیں)، جب میں آگے بڑھنے والی اور صرف یہ کہنے والا تھی کہ ہمیں ان لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے، تو مجھے سیکسسٹ اور ستم ظریفی والے تبصرے موصول ہوئے۔ وہ مجھے “مہاجروں کی مدر ٹریسا” کہتے ہوئے میرا مذاق اڑا رہے تھے، لیکن مجھے اس پر فخر ہے۔ تیلوس کو پناہ گزینوں کے مسئلے سے صرف فائدہ ہی ہوا ہے، اسے کوئی نقصان نہیں ہوا اور مجھے یقین ہے کہ باقی علاقوں کی آبادیاں بھی پناہ گزینوں کے ساتھ بقائے باہمی سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

ہماری گفتگو کے دوران میں نے دیکھا کہ ان کے دفتر میں، اداکارہ اور سیاستدان میلینا مرکوری کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ میں واقعی متاثر ہوا ہوں اور طلوس کی میئر مس ماریہ کامہ الیفیری کی طرف سے بہت حوصلہ افزائی ہوئی۔ ایسی بااختیار عورت کو اس منصب میں دیکھ کر وہ میرے لئے فخر کا لمحہ تھا! وہ سب کے لئے ایک الہامی اور اصل نسوانی شخصیت ہیں۔

مرتضیٰ رحیمی