Photo by Luigi Opati

ہم نے یوروچائلڈ 2018 میں آواز بلند کی [حصہ 1]

ہماری ٹیم یوروچائڈ کانفرنس میں شرکت کے لئے اوپیٹائجا، کروشیا روانہ ہوئی۔ کانفرنس کے دوران ہم نے گفتگو اور تقاریر میں حصہ لیا، ہم نے پورے یورپ کے نوجوانوں اور بچوں سے ملاقات کی، ہم نے ایسی کہانیاں سنی جو ہمیں چھونے لگیں اور ہم بچوں اور بچوں کے حقوق سے میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں سے متاثر ہوئے۔ ہم ایک ایسے یورپ اور دنیا کا تصور کرنے میں کامیاب ہوئے جہاں ہمارے حقوق محفوظ ہوں گے، جہاں فیصلہ سازی کے تمام مراکز میں ہماری آواز سنی جاسکے گی، تاکہ ہم ان فیصلوں پر اثر انداز ہوسکیں جن سے ہم متاثر ہوتے ہیں۔ ہم نوجوان صحافی اور آئرلینڈ، جرمنی، کروشیا، ہنگری اور مالٹا سے تعلق رکھنے والے ہمارے ساتھی نمائندے تیار ہیں اور مہاجر پرندوں کے صفحات کے ذریعے ہم اپنی زندگی کو متاثر کرنے والے تمام معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہیں گے۔

——

نام : کوپنی، بوٹونڈ، اولیور

عمر: نوجوان

ملک : ہنگری

موضوع : ہنگری میں تعلیم

عنوان: ہنگری کی تعلیم کے بارے میں رائے

آپ کس کو اپنا مضمون پڑھانا چاہتے ہیں: یوروچائلڈ کے ممبران

ہنگری کا تعلیمی نظام ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بہت ہی مختلف طریقوں کا استعمال کرتا ہے۔ عوامی اسکول اساتذہ اور طالب علموں کے مابین درجہ بندی پر منحصر ہے اور مل جل کر کام کرنے کے طریقوں اور ٹیم ورک میں کی کمی ہے۔ 

سرکاری اثر و رسوخ بہت مضبوط ہے کیونکہ ساری مالی مدد حکومت کی طرف سے ملتی ہے۔ اس میں قومی نظامت کو اپنی ترجیحات کے مطابق بنانے کے لئے ہر مرتبہ تعلیمی نظام کو بدلنا پڑتا ہے۔ حکومت نے عوام کی رائے کی پرواہ کرنے کا دکھاوا کیا ہے اوربرائے نام نصاب کے تازہ ترین ایڈیشن (ستمبر 2018) پر طلباء اور اساتذہ سے مشاہدے کا کہا لیکن دراصل ہم اس کی لمبائی اور نا واقف، بچوں کے لیے غیر دوستانہ زبان میں لکھائی کی وجہ سے اسے پڑھ نہ سکے تھے۔

ہم، طلباء مظاہرہ کرکے اپنے اختلاف کا اظہار کرنا چاہتے تھے، لیکن حکام نے ہماری آواز کو نظرانداز کردیا۔ حکومت کے حامیوں نے مظاہروں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو عوامی فیصلہ سازی میں شامل نہیں ہونا چاہئے، اس کی بنیادی وجہ ان کی کم عمری ہے۔

اگرچہ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ صورتحال ناقابل قبول ہے، ہم ایک روشن مستقبل کی امید کرتے ہیں۔

——

نام: امیلی، برٹٹا، رانیہ

عمر: 12، 31، 23

ملک: جرمنی، یونان

موضوع: گیند کے حقوق

عنوان: گیند کے حقوق کی گنتی

آپ اپنا مضمون کسے پڑھانا چاہتے ہیں: ہر شخص، ہر طرح کے گیند کو (یہ بہت اہم ہے)۔ 

سب کے حقوق ہونا ضروری ہیں، یہاں تک کہ گیند کے بھی حقوق۔ 

ہر گیند کو چھلانگ لگانے، اچھالنے، سونے، بیگ میں انتظار کرنے کا حق حاصل ہے۔ بچوں کے ساتھ کھیلنے، دوسری گیندوں سے ملنے، گیندوں کے حقوق کے بارے میں جاننے، ان کے لئے احتجاج کرنے، گیندوں والے اسکول جانے، گیمز کھیلنے، محفوظ محسوس کرنے، مختلف ہونے، اپنے کھلاڑیوں کے ذریعہ محفوظ رہنے کا آزادانہ حق حاصل ہے۔ 

وہ مظاہرہ (احتجاج) کرسکتے ہیں۔

وہ مہم چلا سکتے ہیں۔

وہ سیاستدانوں سے بات کرسکتے ہیں۔

وہ انسٹاگرام (سوشل میڈیا) پر پٹیشن دے سکتے ہیں۔

وہ اپنی آواز سنوا سکتے ہیں۔

وہ بال گیند کی کونسل تشکیل دے سکتے ہیں۔

وہ سوشل میڈیا پر جا سکتے ہیں۔

یہ کیوں ضروری ہے؟

یہ ضروری ہے کیونکہ ایک گیند کو ہمیشہ ہی نظرانداز کیا جاتا ہے۔ یہ صَحيح نہیں ہے.

اگر ہم کسی گیند کو سن سکتے ہیں، تو ہم کسی بچے کی بات کیوں نہیں سن سکتے؟

——

نام: برائن

عمر: 16

ملک: آئرلینڈ

عنوان: گھر والوں کی بچوں کے ساتھ بدسلوکی

عنوان: چھوٹے بچے بدسلوکی کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں

آپ اپنا مضمون کسے پڑھانا چاہتے ہیں: جو بھی والدین کی طرف سے بدسلوکی شکار ہوا۔ 

میری ساری زندگی میرے والدین نے میرے ساتھ زیادتی(بدسلوکی) کی لیکن ایک دن ایسا تھا جب میں نے کہا بس اب بہت ہوگیا اور میں وہاں سے چلا گیا۔ اپنا گھر چھوڑنے کے کچھ دن بعد تک میں اپنے اچھے دوست کے گھر رہا۔ پھر جب میں اس سب کے لیے تیار ہوا ہم گاردہ اسٹیشن (پولیس) گئے۔

اسٹیشن جانے کے بعد مجھے ایک سماجی کارکن کے پاس تفویض کیا گیا اور ایک رضاعی گھر میں ڈال دیا گیا۔ لیکن میرے دو اور بھائی بھی ہیں اور کبھی کبھی بہت میں بہت افسردہ ہوجاتا ہوں۔ میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا میں نے انھیں ادہر اکیلا چھوڑ کر آنے کا صحیح فیصلہ کیا، حالانکہ میں جانتا ہوں کہ میرں نے کیا، میں برا محسوس کرنے سے اپنے آپ کو روک نہیں پا رہا۔ لہذا، اب جو پریشانی مجھے ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ اس پریشانی کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ 

Photos by Luigi Opati

الیکزینڈرا تاراگولیا پاپاکوستااینتینو

دیمترا کائسیدی

Add comment