Photo: INTIME photo agency

کریم انصریفارد: AEK فٹبال کلب، کے ایرانی فٹ بالر پناہ گزین پرندوں سے بات کرتے ہیں۔

جب سے مجھے احاس ہوا کہ فٹ بال کیا ہے، اس وقت سے مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے۔ لہذا، میرے بہت سارے پسندیدہ کھلاڑی ہیں اور ان میں سے AEK فٹ بال کلب کے فٹ بالر، کریم انصریفارد میرے پہلے رول ماڈل تھے۔ اس سال کے لاک ڈاؤن کے دوران میں نے ان کے ساتھ ایک آن لائن انٹرویو کرنے کا فیصلہ کیا، ان سے بات چیت کرنے اور کچھ سوالات پوچھنے کرنے کے لیے جو کہ میں ان سے پوچھنا چاہتی تھی۔ ان کا انٹرویو کرتے ہوئے مجھے بہت اچھا لگا جن کی میں بہت تعریف کرتی ہوں۔ 5 سال تک ان کی فین رہنے کے بعد میں ان سے بات کرنے کے قابل ہوئی۔

کریم انصریفارد کا تعلق ایران کے ایک شہر اردبیل سے ہے، اور اس کی عمر اب 30 سال ہے۔ فی الحال وہ یونان کے AEK فٹ بال کلب میں کھیلتا ہے۔ وہ بچپن میں ہی فٹ بال کا کھلاڑی بننا چاہتا تھا۔ اس نے فٹ بال کھیلنا اس وقت شروع کیا جب اس کی عمر 8 سال تھی اور اس نے ہمیشہ سے ہی یورپ کی بڑی ٹیموں کے ساتھ ساتھ ایران کی قومی ٹیم میں بھی فٹ بال کھیلنے کا خواب دیکھا تھا۔

«میں 10 سال کی عمر سے قومی زمرے میں تھا اور 19 سال کی عمر میں مجھے سینئر کی قومی ٹیم کے ساتھ مدعو کیا گیا تھا۔ برازیل ورلڈ کپ کے بعد میں نے اسپین کا سفر کیا، میں نے یورپی فٹ بال میں شمولیت اختیار کی اور میں اپنی زندگی میں ایک نیا سفر شروع کرنے میں کامیاب رہا۔ ایران کی پریمیر لیگ کے بعد اور اسپین کے بعد، میں یونان آیا۔ میں 3 سال یہاں رہا اور پھر میں انگلینڈ گیا، پھر قطر اور پھر واپس یونان آیا، انھوں نے ہماری بات چیت کے دوران وضاحت کی۔

میرا اگلا سوال تھا کہ مشہور فٹ بالر ہوکر کیسا محسوس ہوتا ہے۔ انصریفارد نے کہا مشہور ہونے کی بھی اپنی ہی مشکلات تھیں۔ خاص طور پر، انہوں نے یہ کہا کہ مستقل طور پر بے نقاب رہنا بھی کسی کی زندگی کو تکلیف میں مبتلا کرسکتا ہے، لیکن جب آپ باہر جاتے ہیں اور ہر جگہ لوگ آپ سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں تو بہت اچھا محسوس ہوتا ہے۔

Photo: INTIME photo agency

میں نے ان سے پوچھا کہ وہ دنیا کا بہترین فٹ بالر کسے مانتے ہیں۔ بغیر سوچے سمجھے انہوں نے «کرسٹیانو رونالڈو» کا نام لیا! «تمام تر کامیابیوں اور ان کی صلاحیتوں کے علاوہ، سب سے اہم بات یہ ہے کہ – جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے – انہوں نے بہت محنت کی ہے، وہ واقعی اپنے آپ کو اس مقام پر قائم رکھنے کی کوشش کررہے ہیں، تاکہ دن بدن بہتر ہوسکیں، جو کہ مجھے بہت پسند آئی ہے۔ اسی لئے میں اسے بہت پسند کرتی ہوں اور، میری خیال سے، وہ سب سے بہترین فٹ بالر ہیں۔

چونکہ میں خود بھی فٹ بال کھیلتی ہوں، اس لئے میں نے ان سے نوجوان لڑکیوں اور خواتین کا فٹ بال کھیلنے اور ان کو درپیش مشکلات کے بارے میں بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران میں مسلمان خواتین کی حمایت کرتے ہیں، جن کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان سبھی مشکلات سے نمٹنا ان کے لئے بہت مشکل ہے، لیکن ان کی خیال کے مطابق، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ مرد ہیں یا عورت، آپ کو اپنے اہداف کی پیروی کرنا ہوگی اور ان کو حاصل کرنے کے لئے سخت محنت کرنی ہوگی۔ «مجھے پتا ہے کہ یہ مشکل ہے لیکن، جیسا کہ میں نے کہا، آپ کو اپنے مقاصد پر عمل پیرا ہونے کے لئے ان حالات سے نمٹنا ہوگا اور خلفشار کو اپنے راستے میں نہ آنے دیں»۔

اس کے پیغام نے میرے دل کو بہت طاقت دی اور اس نے مجھے اپنے فٹ بال کا گول کرنے میں زیادہ سے زیادہ کوشش کرنے پر مجبور کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ یہ فٹ بالر کے ساتھ میرا پہلا انٹرویو تھا اور مجھے کریم انصریفارد جیسے پیشہ ور فٹبالر سے ملنے کا موقع ملا، تاکہ مجھے فٹ بال میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے مزید معلومات اور مشورے مل سکیں۔ مجھے امید ہے کہ اگلی بار، وبائی امراض کے خاتمے کے بعد، ہمیں شخصی طور پر ملنے کا موقع ملے گا!

معصومه حسینی